29 اگست 2025 - 15:30
مقبوضہ فلسطین میں آبادکاروں کی عدیم المثال بغاوت اور مظاہرے / اقتدار کی رسہ کشی؛ نیتن یاہوکا تختہ الٹنے پر اپوزیشن متحد ہو گئی

مقبوضہ فلسطین میں آبادکاروں کی عدیم المثال بغاوت اور مظاہرے / تل ابیب میں اقتدار کی رسہ کشی؛ نیتن یاہوکا تختہ الٹنے کئ اپوزیشن متحد ہو گئی / غزہ جنگ کو روکنے اور قیدیوں کی مقبوضہ علاقوں میں واپسی کے لئے مظاہرے شروع ہو گئے / صہیونی ریاست کا اندرونی بحران اب انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے اور نیتن یاہو کے مخالفین اس کی حکومت گرانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، صہیونی ریاست کی اندرونی زوال پذیری کا سلسلہ جاری ہے۔ اور سیاسی دھاروں کے درمیان تصادم اور تناؤ روز بروز بھڑک رہا ہے۔ اس دوران، اس ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو، جو  اس ریاست کے اندرونی تنازعات کے نتائج کی پروا کیے بغیر، اپنا ڈھول پیٹتا رہتا ہے اور اپنے "اعلیٰ ذاتی مفادات" کی پیروی کرتا ہے۔

موج بی‌سابقه اعتراضات و شورش داخلی در سرزمین‌های اشغالی/ نبرد قدرت در تل‌آویو؛ اپوزیسیون برای سرنگونی کابینه نتانیاهو متحد شد

عبرانی زبان کے تجزیہ کاروں اور ذرائع ابلاغ نے بارہا خبردار کیا ہے کہ نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کا تسلسل اور اس کے نتیجے میں صہیونی ریاست پر ان کی مسلسل حکمرانی اندرونی طور پر تباہی اور ریاستی وجود کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

معاشرے سے لے کر صہیونی ریاست کی فوج تک، صہیونیوں کے لئے آج حالات انتہائی نازک ہیں اور نیتن یاہو اپنے مفادات کے حصول کے لئے اپنے جنون آمیز اقدامات سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ لہذا، حالیہ ہفتوں میں، ہم نے مقبوضہ فلسطین میں کشیدگی اور وسیع تنازعات کی ایک نئی اور عدیم المثال لہر کا آغاز دیکھا ہے۔

صہیونی ریاست میں داخلی مظاہروں کی نئی لہر کا آغاز نیتن یاہو کا غزہ پر مکمل قبضہ کرنے کا فیصلہ اور وسیع پیمانے پر فوجی کاروائی کا ایک نیا دور ہے، یہ ایک ایسی کاروائی ہے جس میں نیتن یاہو کے ناقدین کے علاوہ، صہیونی ریاست کی فوج کے چیف آف اسٹاف اور بہت سے کمانڈروں نے اس کارروائی کے سنگین نتائج اور نقصانات کے بارے میں خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ کاروائی صرف نیتن یاہو کے ذاتی مفادات کے لئے ہو رہی ہے جو ہر قیمت پر اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے پر بضد ہے۔

مقبوضہ علاقوں میں احتجاج اور ہڑتالوں کی ایک نئی لہر کا آغاز

اگست 2025 میں اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی غزہ شہر پر قبضہ اور حماس کے خلاف جنگ کو تیز کرنے کی تجویز پر ریاست کے اندر وسیع پیمانے پر ردعمل سامنے آیا۔ احتجاج کرنے والوں، خاص طور پر حماس کے قبضے میں موجود صہیونی قیدیوں کے خاندانوں نے اس تجویز کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قیدیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوگا۔

مورخہ 17 اگست 2025 کو قیدیوں کے خاندانوں کی اپیل پر ملک بھر میں ایک دن کی ہڑتال کی گئی، احتجاج کرنے والوں نے شاہراہیں بند کر دیں اور تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے کیے۔

اسرائیلی پولیس نے کم از کم 38 احتجاجیوں کو گرفتار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عوامی نظم و ضبط میں خلل برداشت نہیں کرے گی۔ ان مظاہروں کو مختلف سماجی اور سیاسی گروپوں کی حمایت حاصل تھی اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ مظاہرے نیتن یاہو حکومت پر دباؤ بڑھانے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئے۔

موج بی‌سابقه اعتراضات و شورش داخلی در سرزمین‌های اشغالی/ نبرد قدرت در تل‌آویو؛ اپوزیسیون برای سرنگونی کابینه نتانیاهو متحد شد

گذشتہ دنوں ہونے والے ان مظاہروں کے دوران صہیونی قیدیوں کے خاندانوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقتدار میں پر قابض رہنے کے لئے صہیونی قیدیوں کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا: "اب وقت آگیا ہے کہ تبادلے کے معاہدے پر دستخط میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی [نیتن یاہو کی] کوششوں کو روکا جائے۔"

انہوں نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا: "اسرائیلی قیدیوں کو واپس لانے اور جنگ بند کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔"

نیتن یاہو کی کابینہ پر تنقید کرتے ہوئے ان خاندانوں نے زور دے کر کہا: "نیتن یاہو کی کابینہ غزہ پٹی میں جنگ میں داخل ہوئی ہے جس کا کوئی واضح تک نہیں ہے۔"

عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے بھی ان خاندانوں کے حوالے سے لکھا: "کابینہ نے فوجی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں غزہ میں ہمارے بچے مارے جائیں گے۔"

موج بی‌سابقه اعتراضات و شورش داخلی در سرزمین‌های اشغالی/ نبرد قدرت در تل‌آویو؛ اپوزیسیون برای سرنگونی کابینه نتانیاهو متحد شد

نیز، غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر جاری عالمی دباؤ نے تل ابیب کے لئے کھیل کا میدان تنگ کر دیا ہے، اور سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں مقیم آبادکار بھی جمود کے جاری رہنے کے بارے میں فکر مند ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے نیشنل سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے نتائج کے مطابق 61 فیصد یہودی آباد کاروں کا خیال ہے کہ قیدیوں کی واپسی صرف اس معاہدے سے ممکن ہے جس سے جنگ کا خاتمہ ہو۔ نیز سروے کے مطابق 65 فیصد صہیونیوں کا خیال ہے کہ غزہ کی پٹی پر قبضے کا فیصلہ قیدیوں کی واپسی کے عمل کو ممکن نہیں بنائے گا۔

مذکورہ ادارے کے سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی آباد کاروں میں سے 68 فیصد کا خیال ہے کہ کابینہ کے پاس جنگ کے خاتمے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اسرائیلی ریاست کے قومی سلامتی کے ادارے نے بھی اپنے سروے کے نتائج میں کہا ہے کہ 66 فیصد آباد کار بین الاقوامی تنہائی کے بارے میں فکر مند ہیں۔

نیتن یاہو پر حملے، ہر روز، کل سے زیادہ شدید

اپنے حلف برداری کے پہلے دن سے ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ملکی اور غیر ملکی شعبوں میں اپنی پالیسیوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے جو اس کی متعدد ناکامیوں کے باعث آج اور بھی شدید ہو گئی ہے۔ یہ تنقید مختلف گروپوں کی طرف سے اٹھائی گئی ہے، جن میں حزب اختلاف کی جماعتوں، قیدیوں کے اہل خانہ، حتیٰ کہ کابینہ اور فوج کے کچھ ارکان بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے کو دیئے گئے بیانات میں کہا کہ ـ خاص طور پر "سیاسی وژن اور فوجی فیصلوں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی" کے حوالے سے ـ کی پوری ذمہ داری "وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو"  پر عائد ہوتی ہے۔

موج بی‌سابقه اعتراضات و شورش داخلی در سرزمین‌های اشغالی/ نبرد قدرت در تل‌آویو؛ اپوزیسیون برای سرنگونی کابینه نتانیاهو متحد شد

صیہونی ریاست کے سابق وزیراعظم ایہود باراک نے اسرائیلی چینل i12 کے ساتھ اپنے بیان میں کہا کہ اس ریاست کے موجودہ وزیراعظم "بنیامین نیتن یاہو" پر ـ غزہ پٹی پر حملے کے ناکام انتظام، خاص طور پر "سیاسی نقطہ نظر اور فوجی فیصلوں کے درمیان عدم ہم آہنگی" کے معاملے میں ـ مکمل ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ایہود باراک نے کہا کہ نیتن یاہو سیاسی اور ذاتی وجوہات، خاص طور پر اپنے مقدمے سے بچنے کے لئے جنگ کو طول دے رہا ہے، ایک ایسا اقدام جس سے اسرائیل غزہ کی دلدل میں مزید پھنس جائے گا اور ایک لامتناہی جنگ کی طرف بڑھ جائے گا۔

باراک نے نیتن یاہو کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس کی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ ریاست سے الگ تھلگ ہو گئی ہے اور اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

باراک نے مزید کہا کہ نیتن یاہو جغرافیائی-سیاسی حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے اور امریکہ جیسے اہم اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جو 'ناقابل تصور حد تک' اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔

صہیونی ریاست کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ نیتن یاہو اکثر اسرائیلی آبادکاروں کا اعتماد کھو چکا ہے اور اس کی کابینہ کو اس ریاست کی تاریخ کی بدترین کابینہ ہے۔

نیتن یاہو کے ایک اور مخالف بینی گانٹز نے ریاست کے وزیر اعظم کے مخالفین کے مشن کے حوالے سے لکھا: اپوزیشن کا فوری کام ایک ایسی حکومت بنانا ہے جو قیدیوں کو رہا کر سکے۔

موج بی‌سابقه اعتراضات و شورش داخلی در سرزمین‌های اشغالی/ نبرد قدرت در تل‌آویو؛ اپوزیسیون برای سرنگونی کابینه نتانیاهو متحد شد

گانٹز نے واضح کیا: آپ کے تصورات ایک بار پھر ناکام ہو گئے ہیں اور آپ حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کابینہ نیند سے جاگے اور قیدیوں کی واپسی اور ہر کسی کے لئے لازمی فوجی خدمت کے لئے کام کریں۔

گانٹز نے بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ کا تختہ الٹنے اور نئی کابینہ کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا۔

صہیونی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ "یائر گولن" نے ایک تقریر میں نیتن یاہو کی جنگ جاری رکھنے کی پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہ نیتن یاہو کی کابینہ بجٹ کو یرغمال بنائے ہوئے ہے اور قیدیوں کی واپسی اور جنگ ختم کرنے کے بجائے غزہ پر قبضے کی مالی معاونت کے لئے بجٹ خسارے میں اربوں کا اضافہ کر رہی ہے۔

موج بی‌سابقه اعتراضات و شورش داخلی در سرزمین‌های اشغالی/ نبرد قدرت در تل‌آویو؛ اپوزیسیون برای سرنگونی کابینه نتانیاهو متحد شد

گولان نے کہا کہ اسرائیل میں زندگی گذارنے کی لاگت بڑھ رہی ہے اور ٹیکسوں میں اضافہ ہو گا، اور یہ کہ ہمیں نیتن یاہو اور انس کے شراکت داروں کی سیاسی بقا کے لئے معاشی تباہی کا سامنا ہے۔

گولان ان اسرائیلی اہلکاروں میں سے ایک ہے جو ـ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کی واپسی کے مقصد سے کیے گئے ـ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہونے والی عام ہڑتالوں میں شامل تھا اور اس نے کہا تھا کہ "وقت ختم ہو گیا ہے، ہم یرغمالیوں (قیدیوں) کی رہائی کے لئے اب سب کچھ کریں گے۔"

نیتن یاہو کی مخالف جماعتیں اکٹھی ہو رہی ہیں

حزب اختلاف کی جماعت "اسرائیل ہمارا گھر" کے سربراہ اور حکومت کے سابق وزیر خارجہ نے حکومت کی حزب اختلاف کے رہنما "یائیر لاپید" کے نام ایک پیغام میں مطالبہ کیا کہ وہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین کا ہنگامی اجلاس بلا دے۔

اس اجلاس کا مقصد یہ ہے کہ صہیونی ریاست کے سابق وزیر اعظم "نفتالی بینت" اور صہیونی ریاست کے سابق آرمی چیف "گادی آئزنکوٹ" بھی اس میں شامل ہوں تاکہ آنے والی حکومت کے عمومی فریم ورک کو تیار کیا جا سکے۔

لیبرمین نے اپنے پیغام میں کہا: "ان بنیادی فریم ورکس کو  ـ جو تیار کیے جائیں گے ـ  ان میں گھریلو معاملات سے متعلق مرکزی معاملات پر وسیع معاہدوں کی عکاسی ہونی چاہئے، جن میں سب سے اہم سلامتی، معیشت، آئینی مسودہ، فوجی خدمات کا مسئلہ، اور مذہب اور ریاست کے درمیان تعلقات ہیں، جبکہ ایک یہودی، صہیونی، جمہوری ریاست کے طور پر اسرائیل کی بنیادی اقدار کا تحفظ کرنا ہے۔"

موج بی‌سابقه اعتراضات و شورش داخلی در سرزمین‌های اشغالی/ نبرد قدرت در تل‌آویو؛ اپوزیسیون برای سرنگونی کابینه نتانیاهو متحد شد

اس سے قبل، یائیر لاپید نے ہنگامی حکومت میں شامل ہونے کی تجویز کی مخالفت کی تھی، جو کہ اسٹیٹ کیمپ پارٹی کے سربراہ بینی گانٹز نے غزہ پٹی میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے مقصد سے پیش کی تھی۔

لاپید نے کہا کہ ایسی حکومت میں شامل ہونے کا کوئی جواز نہیں ہے جس میں صہیونی ریاست کے داخلی سیکورٹی کا وزیر "ایتامار بن گیر" اور وزیر خزانہ "بیزالل اسموترچ" موجود ہوں، کیونکہ ان کی موجودگی میں غزہ سے قیدیوں کی واپسی کے لئے معاہدہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

صہیونی فوج میں تشویش؛ صورت حال اچھی نہیں ہے

ہاآرتص اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صہیونی ریاست کے وزیر اعظم نے فوجی نمائندوں کے متعدد اجلاسوں میں اپوزیشن کے موقف پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ "مبالغہ آمیز خدشات" کا اظہار کر رہے ہیں۔

اخبار نے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف آف اسٹاف ایال زمیر نے وزراء پر زور دیا تھا کہ حماس پر مزید فوجی دباؤ فوج کی ہلاکتوں، اسرائیلی قیدیوں کی ہلاکت کی سطح میں اضافہ اور ریزرو فورسز پر بوجھ بڑھنے کا باعث بنے گا۔

ہاآرتص نے لکھا کہ رفح شہر پر قبضہ قیدیوں کی آزادی کا باعث نہیں بنا بلکہ اسرائیلی قیدیوں اور فوجیوں کی ہلاک کا باعث ہؤا۔ اخبار نے مزید بتایا کہ فوجی کمانڈروں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ نیتن یاہو ملاقاتوں کے دوران ان کے پیشہ ورانہ مشوروں کو نظر انداز کر رہا ہے۔

موج بی‌سابقه اعتراضات و شورش داخلی در سرزمین‌های اشغالی/ نبرد قدرت در تل‌آویو؛ اپوزیسیون برای سرنگونی کابینه نتانیاهو متحد شد

نیز، غزہ جنگ کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر، صہیونی ریاست کے غزہ پٹی پر جاری حملوں کے ساتھ ساتھ، اطلاعات ہیں کہ غاصب فوج کی صفوں میں بے اطمینانی اور انتشار اور شکست و ریخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی دوران اسرائیلی چینل i13 نے اسرائیلی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے ارکان غزہ میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی ضرورت کے حوالے سے تل ابیب کے آرمی چیف آف اسٹاف ایال زمیر کے مطالبے پر سخت برہم ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کا دفتر زمیر کو ہٹانے اور ایک اعلیٰ عہدے دار کو فوج کا کمانڈر انچیف مقرر کرنے کی تجویز پر غور کر رہا ہے کیونکہ زمیر اسرائیلی فوج کی تھکن اور فرسودگی کے باعث، غزہ شہر پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے۔

یہ اس صورت حال میں ہے کہ فوجی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ زمیر اس اقدام سے متفق نہیں ہوں گے۔

موج بی‌سابقه اعتراضات و شورش داخلی در سرزمین‌های اشغالی/ نبرد قدرت در تل‌آویو؛ اپوزیسیون برای سرنگونی کابینه نتانیاهو متحد شد

غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے اور اس کے نتائج، جانی نقصانات اور معاشی خسارے کے جائزوں کے بعد صہیونی ریاست کی فوج میں کافی تعداد میں افسروں اور کمانڈروں نے ایسے آپریشن کو بے نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے نیتن یاہو کے مفادات کے لئے قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی حکومت اور طاقت کو برقرار رنے کے لئے ایسا اقدام (غزہ میں آپریشن کو وسعت دینا) کر رہا ہے۔

جنگ کے درمیان تنازعہ؛ ہریدی مخمصہ اب بھی نیتن یاہو کو پریشان کر رہا ہے

ان مصیبتوں کے درمیان جو اس وقت نیتن یاہو کو درپیش ہیں، مقبوضہ علاقوں میں ایک اور سنگین مسئلہ بھی چل رہا ہے، جسے ماہرین کے مطابق، نیتن یاہو حکومت کے گرنے کی بنیادی وجہ ہوگا اور وہ حریدیوں کی فوجی خدمت سے استثنیٰ کا قانون ہے۔

حریدی یہودیوں کا فوجی خدمت سے استثنیٰ عرصے سے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے دیگر صہیونی آبادی کے غصے کا باعث رہا ہے، اور تقریباً دو سالہ غزہ جنگ نے ایک پریشان کن عنصر کو ایک سیاسی بحران میں بدل دیا ہے۔ یہ صہیونی معاشرے میں خلیج کو گہرا کر رہا ہے اور صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے نازک اتحاد کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

گذشتہ مہینے، دو انتہائی آرتھوڈوکس جماعتیں، جو نیتن یاہو کی پارلیمانی اکثریت کو برقرار رکھنے کے لئے اہم ہیں، اس وقت کابینہ سے باہر ہو گئیں جب کابینہ نے حریدیوں کی فوجی خدمت سے استثنیٰ کے قانون کو منظور نہیں کیا۔ ان کا اقدام وزیر اعظم کے اتحاد کے ٹوٹنے اور قبل از وقت انتخابات کا باعث بن سکتا ہے، حالانکہ نیتن یہ اس سے کہیں زیادہ سنگین سیاسی خطرات سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔

موج بی‌سابقه اعتراضات و شورش داخلی در سرزمین‌های اشغالی/ نبرد قدرت در تل‌آویو؛ اپوزیسیون برای سرنگونی کابینه نتانیاهو متحد شد

اسرائیلی فوج میں قانون کے مسودے کے خلاف حریدی یہودیوں کی طرف سے احتجاج اور سڑکوں پر جھڑپیں جاری ہیں اور ریاست کی پولیس ان کے خلاف تشدد کے استعمال پر مجبور ہے۔

ایک اور مسئلہ ـ جو یہاں دوسرا بحران بن گیا ہے ـ وہ ریاست کی فوج میں اہلکاروں کی قلت کا سامنا ہے، جسے صرف حریدی نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرنے اور ریزرو فورسز پر دباؤ کم کرنے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ اب تک حاصل نہیں ہوسکا ہے، ایک ایسا مسئلہ جس کی وجہ سے صہیونیوں کے درمیان اٹھی ہوئی حریدی یہودیوں کے خلاف اٹھی ہوئی غصے کی لہر میں شدت آئی ہے۔

اس دوران، ایسا لگتا ہے کہ یہ مسئلہ بالآخر نیتن یاہو کے اتحاد میں ایک وسیع داخلی بحران کا باعث بنے گا اور مستقبل قریب میں، نیتن یاہو کی حکومت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دے گا۔

اسرائیلی حکومت کا پیچیدہ اندرونی بحران

اسرائیلی ریاست اس وقت اپنے سب سے پیچیدہ اندرونی اور بیرونی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہی ہے۔ وسیع پیمانے پر احتجاج، ہڑتالیں اور سیاسی تنازعات معاشرے اور حکومت میں گہری تقسیم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

نیتن یاہو کو شدید ملکی اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے، اور غزہ جنگ کے حوالے سے اس کی پالیسیوں نے ان بحرانوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔

دوسری طرف، اسرائیلی فوج فوجی طاقت کے باوجود تزویراتی چیلنجوں کا سامنا ہے اور اس کے حوصلے پست ہو چکے ہیں، جو اس کے بیان کردہ اہداف کے حاصل کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتے ہیں۔

ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے: یا تو اسے داخلی اور بین الاقوامی رائے عامہ کا پاس رکھتے ہوئے جنگ بندی اور مذاکرات کی ماننا پڑے گی، یا پھر جنگ اور سخت گیر پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے بین الاقوامی تنہائی اور داخلی انہدام کے خطرے کو قبول کرنا ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو حکومت کو مکمل طور پر گرانے اور اسے اور اس کے حامیوں کو سیاسی منظر نامے سے ہٹائے بغیر، یہ بحران ریاست میں مزید عدم استحکام اور بالآخر مکمل انہدام کا باعث بن سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha